قـــــــریب آ کہ درِ معــــــــرفت کھلـے تجھ پر تو فاصلــــــــوں کی اذیت میں مبتـلا ہے ابھی حــــــــریمِ ناز میں خوشبو اسی کے دم سے ہے نواحِ جاں میں جو اک پھول ادھ کھلا ہے ابھی🍂
VK
Urdu poetry(شاعری ایک خوبصورت احساس) — сообщество ВКонтакте в рубрике «Книги». На 10 октября 2026 у него 33 826 подписчиков. Публикует в среднем 0,4 поста в день, средний охват поста — 26 (0,1 % подписчиков). Вовлечённость (ER) — 4,9 %. Последняя публикация — 2 дня назад. Данные ТелеМакс, обновляются каждый час.
ER = реакции ÷ охват, ERR = просмотры ÷ подписчики. Охват — средние просмотры поста за 30 дней; медиана рядом показывает типичный пост — она не поднимается от одной оплаченной публикации, в отличие от среднего. Последняя публикация: 2 дн. назад. Число подписчиков снято 1 час назад, остальные метрики пересчитаны 1 час назад.
| День | Подписчики | Прирост | Посты | Реклама | За сутки | Всего | Реакции |
|---|---|---|---|---|---|---|---|
| 11.10.2026 | 33 826 | −25 | 0 | — | — | — | — |
| 10.10.2026 | 33 851 | +1 | 0 | — | — | — | — |
| 09.10.2026 | 33 850 | −206 | 0 | — | — | — | — |
| 08.10.2026 | — | — | 11 | 0 | 287 | 287 | 14 |
| 18.09.2026 | 34 056 | — | 0 | — | — | — | — |
Столбец «за сутки» показывает, сколько просмотров посты дня набрали за первые двадцать четыре часа: эту величину можно сравнивать между днями и каналами. Где замера ещё нет, стоит оценка со знаком «≈» — она считается по кривой набора охвата самого канала. «Всего» — накопленный счётчик тех же постов на сегодня, он продолжает расти. Реклама и реакции тоже относятся к постам этого дня, а не к каналу за сутки; в дни без публикаций там прочерк. Прочерк в подписчиках — в этот день число не измеряли; мы не дорисовываем пропуски.
Недостаточно публикаций для карты.
Недостаточно данных.
Кривая строится по замерам раз в час и появляется примерно через неделю после попадания канала в верхний уровень.
Оценка о наших данных, а не о канале: она падает и там, где цифры просто неполные. Низкая достоверность при высоком качестве значит «канал живой, но охвату верить рано».
قـــــــریب آ کہ درِ معــــــــرفت کھلـے تجھ پر تو فاصلــــــــوں کی اذیت میں مبتـلا ہے ابھی حــــــــریمِ ناز میں خوشبو اسی کے دم سے ہے نواحِ جاں میں جو اک پھول ادھ کھلا ہے ابھی🍂
اپنی باتوں میں میرے نام کےحوالے رکھنا مجھ سےدور ہو تو خود کو سنبھالے رکھنا نہ کھونے دینامیرے ساتھ کےلمحوں کو میری یادوں کو بڑے پیار سےسنبھالے رکھنا تم آؤ گی اتنا یقین ہے مجھکو میرے لئے کچھ وقت نکالے رکھنا دل نے بڑی شدت سے چاہا ہے تمھے میرے لیے اپنے انداز وہی پرانے رکھنا
بازار میں ہر طرف اب تو لگا ہے ایک میلہ دکاندار نے دام بڑھا کر بنایا ہے جھیلا سوچتی ہیں خواتین کہ کپڑا ہے ذرا پیلا میچنگ کے چکر میں شوہر کا بٹووا ہوا ڈھیلا فاطمہ پسینے میں شرابور کھڑے ہیں سبھی ایسی خریداری تو ہم نے دیکھی نہیں تھی کبھی چوڑیاں اور مہندی کی دکانوں پہ ہے رش ہر ایک لڑکی کا چہرہ اب کر رہا ہے بلش رنگ برنگے جوڑوں کی لگی ہے اب قطار ریٹ سن کے خریدار کا جاتا ہے ہوش اڑ فاطمہ اب تو بارگیننگ کا…
کچھ بچانے کے لیے عمر گنواتے ہوئے لوگ خرچ ہو جائیں گے یہ خواب کماتے ہوئے لوگ بھول جاتے ہیں کہ اب یاد نہیں رکھنا مجھے میرا قصہ مجھے آ آ کے سناتے ہوئے لوگ اک توقع کا بہر حال بھرم رکھتے ہیں روٹھنے والوں کو ہر بار مناتے ہوئے لوگ چھوڑ جائیں گے کسی دن یہ بتاتے ہی نہیں یہ بتاتے ہی نہیں اپنا بناتے ہوئے لوگ تیری دہلیز پہ کچھ پھول نہیں خود کو بھی چھوڑ آتے ہیں ترے شہر سے جاتے ہوئے…
وائی فائی کے سگنل جو غائب ہوئے اچانک گھر میں ہر اک شخص کا چہرہ ہوا ہے خوفناک موبائل پہ انگلی چلاتے ہیں سب بے باک ڈیٹا بھی ختم ہوا اور ہو گئے سب غم ناک فاطمہ سوشل میڈیا بغیر اب جینا ہے مشکل انٹرنیٹ کے بنا تو لگتا ہی نہیں ہے اب دل یوٹیوب کی ویڈیو اب تو ہوتی نہیں لوڈ فیس بک اور انسٹا کا بند ہو گیا موڈ میسج بھی واٹس ایپ پہ ہوتے نہیں ڈیلیور دماغ کا درجہ حرارت ہو گیا ہے فیور فاطمہ اب تو سگنل کا انتظار …
لمبی قطاروں میں گھنٹوں کھڑے ہیں یہ بیمار ڈاکٹر صاحب کا نسخہ تو سمجھ نہ آئے ایک بار میڈیکل اسٹور والا بھی سوچتا ہے بار بار عطائی ڈاکٹر بھی بیٹھے ہیں بن کے ہوشیار فاطمہ مریضوں کا اب تو خدا ہی حافظ ہے ہر ایک گولی پہ یہاں بس خرچہ ہی نافذ ہے پرچی بنوانے میں ہی نکل جائے آدھا دن مریض کھانس کھانس کے گنتا ہے اب دن ڈاکٹر صاحب تو فون پہ ہی مصروف ہیں ہم سب بھی دیکھ کر اب تو سخت متعجب ہیں فاطمہ اب تو صبر کا پ…
قـــــــریب آ کہ درِ معــــــــرفت کھلـے تجھ پر تو فاصلــــــــوں کی اذیت میں مبتـلا ہے ابھی حــــــــریمِ ناز میں خوشبو اسی کے دم سے ہے نواحِ جاں میں جو اک پھول ادھ کھلا ہے ابھی🍂
اپنی باتوں میں میرے نام کےحوالے رکھنا مجھ سےدور ہو تو خود کو سنبھالے رکھنا نہ کھونے دینامیرے ساتھ کےلمحوں کو میری یادوں کو بڑے پیار سےسنبھالے رکھنا تم آؤ گی اتنا یقین ہے مجھکو میرے لئے کچھ وقت نکالے رکھنا دل نے بڑی شدت سے چاہا ہے تمھے میرے لیے اپنے انداز وہی پرانے رکھنا
کچھ بچانے کے لیے عمر گنواتے ہوئے لوگ خرچ ہو جائیں گے یہ خواب کماتے ہوئے لوگ بھول جاتے ہیں کہ اب یاد نہیں رکھنا مجھے میرا قصہ مجھے آ آ کے سناتے ہوئے لوگ اک توقع کا بہر حال بھرم رکھتے ہیں روٹھنے والوں کو ہر بار مناتے ہوئے لوگ چھوڑ جائیں گے کسی دن یہ بتاتے ہی نہیں یہ بتاتے ہی نہیں اپنا بناتے ہوئے لوگ تیری دہلیز پہ کچھ پھول نہیں خود کو بھی چھوڑ آتے ہیں ترے شہر سے جاتے ہوئے…
بازار میں ہر طرف اب تو لگا ہے ایک میلہ دکاندار نے دام بڑھا کر بنایا ہے جھیلا سوچتی ہیں خواتین کہ کپڑا ہے ذرا پیلا میچنگ کے چکر میں شوہر کا بٹووا ہوا ڈھیلا فاطمہ پسینے میں شرابور کھڑے ہیں سبھی ایسی خریداری تو ہم نے دیکھی نہیں تھی کبھی چوڑیاں اور مہندی کی دکانوں پہ ہے رش ہر ایک لڑکی کا چہرہ اب کر رہا ہے بلش رنگ برنگے جوڑوں کی لگی ہے اب قطار ریٹ سن کے خریدار کا جاتا ہے ہوش اڑ فاطمہ اب تو بارگیننگ کا…
وائی فائی کے سگنل جو غائب ہوئے اچانک گھر میں ہر اک شخص کا چہرہ ہوا ہے خوفناک موبائل پہ انگلی چلاتے ہیں سب بے باک ڈیٹا بھی ختم ہوا اور ہو گئے سب غم ناک فاطمہ سوشل میڈیا بغیر اب جینا ہے مشکل انٹرنیٹ کے بنا تو لگتا ہی نہیں ہے اب دل یوٹیوب کی ویڈیو اب تو ہوتی نہیں لوڈ فیس بک اور انسٹا کا بند ہو گیا موڈ میسج بھی واٹس ایپ پہ ہوتے نہیں ڈیلیور دماغ کا درجہ حرارت ہو گیا ہے فیور فاطمہ اب تو سگنل کا انتظار …
پرچے کی راتوں کو جاگے تھے ہم سب ہی مل کر پوچھے جو باب ان کے اترے ہیں یکدم ہی چہرے استاد صاحب کی نظروں کے ناکے ہیں گہرے پاس ہونے کی حسرت میں دل پر ہیں پہرے فاطمہ رزلٹ والے دن فون آتے ہیں سارے رشتہ دار پوچھتے ہیں کتنے نمبر ہیں تمہارے کتابوں کے صفحے پلٹتے ہی نیند آنے لگی ساری ریاضی کی فارمولے دل کو ڈرانے لگی نقوش و نگار اب تو پرچے پہ بننے لگے جو کچھ پڑھا تھا وہ سب لفظ مٹنے لگے فاطمہ اب تو سپلی کا ڈر…
لمبی قطاروں میں گھنٹوں کھڑے ہیں یہ بیمار ڈاکٹر صاحب کا نسخہ تو سمجھ نہ آئے ایک بار میڈیکل اسٹور والا بھی سوچتا ہے بار بار عطائی ڈاکٹر بھی بیٹھے ہیں بن کے ہوشیار فاطمہ مریضوں کا اب تو خدا ہی حافظ ہے ہر ایک گولی پہ یہاں بس خرچہ ہی نافذ ہے پرچی بنوانے میں ہی نکل جائے آدھا دن مریض کھانس کھانس کے گنتا ہے اب دن ڈاکٹر صاحب تو فون پہ ہی مصروف ہیں ہم سب بھی دیکھ کر اب تو سخت متعجب ہیں فاطمہ اب تو صبر کا پ…
آیا جو بجلی کا بل چھا گیا ہے اندھیرا پنکھا چلانے پہ گھر میں ہوا ہے سخت سویرا میٹر کی گردش نے دل میں بنایا ہے ڈیرا افسردہ بیٹھا ہے اب تو خاندان یہ میرا فاطمہ اب تو بجھانی پڑیں گی سبھی بتیاں بل دیکھ کر سب کی نکلنے لگی ہیں اب ہچکیاں ہر چیز کے دام اب تو پہنچ گئے ہیں عرش پر آٹے کی بوری پہ روتے ہیں بیٹھ کے فرش پر سبزی اور دالوں کا ریٹ اب تو پوچھو نہ تم بچے بھی مانگیں جو ٹافی تو ملتا ہے غم فاطمہ اب تو ب…
سڑک پہ گاڑیوں کا ایک ایسا سیلاب آیا ہے لگتا ہے ہر انسان گھر سے اپنی کار لایا ہے امیر و غریب سب کو ایک ہی رنگ میں رنگایا ہے نہ جانے کیوں آج ہر شخص سڑک پر ہی ابل آیا ہے پھنسے ہیں فاطمہ سب ایسے کہ کوئی ہل نہیں سکتا کسی کا بھی اب بچھڑا ہوا دل مل نہیں سکتا ہوائی فائرنگ کی طرح ہارن نے کان پھاڑ دیے کنڈکٹروں نے بھی چیخ چیخ کر گلے سجا دیے بےسرے راگ نے دماغ کے سبھی پرزے ہلا دیے شرافت اور تحامل کے سارے قاعد…
شادی کا نام سنتے ہی ہر دل میں ایک ترنگ ہے ہر ایک کے دل میں بس خوشیوں کا ہی ترنگ ہے گھر بار سج گیا ہے ہر اک شے میں نیا رنگ ہے رشتہ داروں کے آنے سے محفل کا روپ دنگ ہے فاطمہ اب تو ہر طرف خوشیوں کا ہی سماں ہے ہر ہونٹ پہ تبسم اور خوشیوں کی داستاں ہے مہندی کی ہے رات اور ابٹن کا ہے نکھار ڈھولک کی تھاپ پر ہے خوشیوں کا اب شمار سکھیاں بھی گا رہی ہیں مل کر گیت بار بار دلہن کے سر پہ سجتا ہے چنری کا سرخ ہار ف…